Thursday, December 31, 2020

گالی - Abused

On the last afternoon of the night, a sadhu is sitting in an asana, innumerable innocent lights are stuck on the black sheet. She is the only child, she is Saleem's love, and everything is dancing under the dome of her desire. 

گالی 

رات کا پچھلا پہر کسی سادھو کے اور آسن جمائے بیٹھا ہے ، سیاہ چادر پہ انگنت معصوم روشنیاں اٹکی ہیں ، ایسے میں شب بیداری کرنے والے نور کے چراغ جلاتے ہیں ، انہی چراغ جلانے والوں میں ایک مینا ہے ----  مینا جو ابوالحسن کی اکلوتی اولاد یے ، سلیم کی محبت ہے ، اور اس کی چاہت کے گنبد تلے می رقصم کی حالت میں سب کچھ وارے ہوئے ہے  ، وہ اللہ سے سلیم کے لیے ہدایت اور آسانی چاہتی ہے ---- سلیم جس کی ماں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی چل بسی تھی ، اور  ابا دیوار پلستر کرتے ہوئے تیسری منزل سے نیچے آن گرا تھا ، سو ابوالحسن اور رضیہ نے اپنے بھتیجے کو بڑے لاڈوں میں پالا تھا ، 

اندھیرے نے بلی کی سی چال چلتے وقت کے کان میں سرگوشی کی 

ابوالحسن کی لاڈلی مینا خواب نگر کے سلیم سے منسوب ہے ، 

روشنیوں کی ٹمٹماہٹ میں اضافہ ہو گیا ، رقص واجب ہوا ---- 

تو سلیم اور مینا کی آنکھوں میں خواب جلتے ہیں ، خواب جو چاہت کے مادے  سے گندھے ہیں،مینا خود کو محبت کے ان دیکھے مقدس دھاگوں میں بندھا ہوا محسوس کرتی تھی ----

 سلیم ابوالحسن سے خائف رہنے لگا تھا جبکہ مینا کو اپنے ابا پہ ترس آتا تھا جنکی زندگی بس محنت سے عبارت تھی ،

 وہ ایک صلح جو اور قناعت پسند انسان تھے جبھی عبدالعزیز جیسے سخت گیر اور اصول پسند سرمایہ دار کے پاس کام کرتے ہوئے انہیں دس برس سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا تھا ، ان دس سالوں میں مینا  بیس برس کی ہو چکی تھی ، اور اسکی بڑھتی ہوئی قامت کو دیکھ دیکھ انہیں شدت سے احساس ہوتا کہ فرائض کی تکمیل کیے دینے کا وقت آ چکا ہے ، سبھی جانتے تھے کہ مینا سلیم کی امانت ہے ، مگر سلیم کی لاابالی فطرت اور غیر مستقل مزاج کی وجہ سے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے خود کو قاصر پاتے تھے -----

زندگی کی چلتی ہوئی گاڑی کو جھٹکا اس وقت لگا جب رضیہ اچانک سے بیمار پڑ گئی ،  مقامی طبیب کو دکھایا گیا ، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا ، کسی نے مشورہ دیا کہ  بڑے ڈاکٹر سے علاج کرواو  ، علاج جتنا مہنگا تھا  معیار زندگی اتنا ہی سستا تھا ، ابو الحسن تمام تر کوشش کے باوجود رقم کا بندوبست کرنے میں ناکام رہے تھے  مجبورا انہیں عبدالعزیز سے قرض مانگنا پڑا ، عبدالعزیز نے خلاف توقع بغیر کسی پس و پیش کے مطلوبہ رقم ابوالحسن کے ہاتھ پہ رکھ دی -- ابوالحسن مقروض ہو گئے ، علاج شروع ہو گیا ، مگر مرض تھا کہ بڑھتا ہی چلا گیا ---  مرض کے ساتھ ساتھ قرض بھی چڑھتا گیا --- تین ماہ کے مسلسل علاج کے بعد کچھ افاقہ ہوا ، البتہ اس سب کے دوران ابو الحسن کا بال بال قرض میں ڈوب چکا تھا یہانتک کہ سلیم کو ابوالحسن کے ساتھ کام کرنا پڑا 

-------

پس سلیم کام پہ جانے لگا ، اسے اپنا فرض ادا کرنا تھا ، وہ اونچے خواب رکھتا تھا مگر زندگی ، اس کے خوابوں سے کہیں زیادہ تلخ تھی ، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی عبدالعزیز کی سرپرستی میں کام کرنے پہ مجبور تھا ، بعض اوقات اسے لگتا کہ وہ یہ قرض کبھی چکا نہیں پائیں گے ، وہ ابوالحسن کی طرح ہی اپنی زندگی بیگار میں کاٹ دے گا ، 

سلیم خفا خفا سا رہنے لگا ، اپنی ذات سے ، خود سے منسلک لوگوں سے ، زندگی سے ---- وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس لگے بندھے دائرے میں چکر کھانے پہ مجبور تھا ، وہ صبح کا نکلا رات میں لوٹتا تھا ، مینا اسے یا تو باورچی خانے میں ناشتہ بناتے نظر آتی یا رات میں ابوالحسن اور اس کے انتظار میں دروازے کی راہ تکتی ملتی ، رضیہ کی حالت اب پہلے سے قدرے بہتر تھی ، ابوالحسن کو محسوس ہوتا وہ پہلے سے زیادہ ضعیف ہو چکے ہیں ، مگر اب انہیں امید ہو چلی تھی کہ سلیم سب سنبھال لے گا ، وہ غلط تھے 

-----

اس کے چہرے پہ سیاہی  تھی ،  کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے ، اور گلے میں طوق پہنائے اسے بستی کی گلی گلی میں پھرایا جا رہا تھا، ہجوم اس پہ آوازیں کستا اور ٹھٹھا اڑاتا ، کوئی چلایا تھا ---- '' قرض نہ چکانے والے کی یہی سزا ہے '' 

اسکی آنکھ کھل گئی ، مینا کا وجود کانپنے لگا ، بچپن کا آنکھوں دیکھا منظر تخیل کے پردے پہ محفوظ ہو چکا تھا ، وہ ہانپتی ہوئی اماں سے جا لپٹی --

--------

سورج سوا نیزے پہ تھا ، گرمی تھی کہ بڑھتی جاتی تھی ، موسم حبس آلود تھا ، نیا مال آ چکا تھا ، سلیم  سامان اتروانے لگا ، عبدالعزیز  کہیں پاس میں ہی جائزہ لیتا تھا ، بعض لمحات الٹی چال چلتے ہیں ، حالات کا رخ بدل جاتا یے ، جانے کیسے سلیم کا دھیان بٹا  کریٹس کو جھٹکا لگا اور وہ پرے جا گرے ، بہت سا سامان دور تک لڑھکتا چلا گیا ، بہت سی نگاہیں مڑیں ، قدم جامد ہوئے ، اور پھر عبدالعزیز کی گونج دار آواز سنائی دی ، کچھ ہی دیر میں وہ سلیم پہ برس رہا تھا ، اتنے میں ابوالحسن  بھی وہاں پہنچ گئے ، صورتحال خاصی گرم تھی ، عبدالعزیز کا غصہ بڑھتا جاتا تھا ،

اس نے  باآواز بلند بتلایا کہ 

ابوالحسن  کا بیٹا کسی کام کا نہیں ، وہ زندگی میں کچھ نہیں کر سکتا ، وہ بیکار ہے ، سراسر بیکار ---ابوالحسن نے آگے بڑھ کے معافی مانگنا چاہی ، مگر سب بیکار تھا ،  سلیم کا جی چاہا وہ آن ہی آن میں اوجھل ہو جائے ،اس کی وجہ سے ابوالحسن کی بھرے بازار میں سبکی ہوئی ہے ،  اسے وہ سارا ہجوم خود پہ قہقے لگاتا محسوس ہوا ، اس کا دماغ جیسے ماوف ہو گیا ،

وہ آگے بڑھا اور عبدالعزیز کو گریبان سے جکڑا، سماں بےچین ہوا ، ہجوم سے شور بلند ہوا تھا 

اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی ، وہ  عبدالعزیز کو برا بھلا کہنے  لگا ،  ایک کے بعد دوسری گالی اس کے منہ سے عبدالعزیز کے لیے ابلی جاتی تھی ، یہ گالیاں نہیں تھیں ، اس کے اندر کا ابال تھا ، عبدالعزیز کے لیے غصہ تھا ، جو اس کی دی گئی گالیوں پہ پاگل ہوا جاتا تھا-----

اس وقت سلیم کو اندازہ نہیں تھا کہ اس سب کا کیا نتیجہ نکلے گا ، مگر ابو الحسن واقف تھے ،انکا وجود کانپنے لگا ،  وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اب کیا ہو گا ،عبدالعزیز کے روابط کے وسیلے انہیں اس علاقے میں کہیں کام نہیں ملے گا ، اور وہ اپنے قرض کی واپسی کا پر زور مطالبہ کرے گا ، وہ غلط نہیں تھے ، ایسا ہی ہوا تھا ----  انہیں مارکیٹ سے نکال باہر کیا گیا ، اور اس کے ساتھ ہی عبدالعزیز نے قرض کی رقم جلداز جلد لوٹانے کا پروانہ دے دیا ، ابوالحسن نے بتیہرے ہاتھ جوڑے ، معافی مانگی ، مگر عبدالعزیز اپنی ہتک اور بےعزتی بھولنے والا نہیں تھا وہ جانتا تھا کہ وہ اس کا قرض لٹا نہیں پائیں گے ، وہ یہ بھی جانتا تھا سلیم مینا کو چاہتا ہے ، سلیم کو اس کی گالی بہت مہنگی پڑنے والی تھی 

------

ابوالحسن نے دس سال اس کی خدمت کی تھی ، انکی عزت کو پامال کرنے میں عبدالعزیز کو دس منٹ بھی نہ لگے ، بہت سے گواہوں کی موجودگی میں اس نے ابوالحسن کو قرض کی واپسی کے لیے سات دن کی مہلت دی ، صحن کے بیچوں بیچ سلیم ابوالحسن کے پیروں میں گر کے معافی مانگتا تھا ، اس نے یقین دلایا کہ وہ یہ قرض لٹا دیں گے ، وہ سب سنبھال لے گا ، وہ پرنم نگاہوں سے اسے دیکھ کے رہ گئے ، مینا نے اپنے کان کا زیور اتار دیا ، رضیہ نے تمام کی گئی بچتیں لا رکھیں ، مگر یہ سب ناکافی تھا ، اس گھر کے کونے کونے سے جتنا بھی نکلتا ، ناکافی ہی ہوتا ---- سلیم نے ابوالحسن سے اجازت لی کہ وہ اسے دوسرے شہر جانے دیں ، وہ ایک ہفتے کے بعد مطلوبہ رقم لے کے لوٹے گا ، اب کی بار وہ انہیں مایوس نہیں کرے گا ، ابوالحسن نے اسے جانے دیا ، مینا دہلیز پہ کھڑی اسے دور جاتا ہوا دیکھتی رہی ، آنسو آنکھوں کے کنارے جمنے لگے تھے ، اسے کیوں لگا اب وہ کبھی ایک نہیں ہو پائیں گے ، 

------

دن گزرتے رہے ، ہر ڈوبتا ہوا سورج انکی آنکھوں کو تاریک کرتا گیا ، امید ٹوٹنے لگی ، دم اٹکنے لگا ، ابوالحسن نے اپنے طور پہ پوری پوری کوشش کی ، قرض مانگا ، مگر کوئی بھی انکی مدد کرنے پہ راضی نہ ہوا ، عبدالعزیز سے بگاڑنا کون چاہتا تھا  ، ابوالحسن پھر سے اس کے پاس گئے مگر سنوائی نہ ہوئی ، زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا گیا ، سات دن گزر گئے  ، عبدالعزیز نے ابوالحسن کی طرف پیغام بھیجا ، قرض کی ادائیگی کا وقت آ چکا تھا ، قرض لوٹانے کی رقم کہیں نہیں تھی ، سلیم واپس نہیں آیا تھا ،اسے رہ رہ کے وہ خواب یاد آتا ،  مینا کی آنکھیں برسنے لگیں --- 

اور پھر عبدالعزیز نے ابوالحسن کے سامنے ایک تجویز رکھ دی ،  مصلحت پسندی کے تحت ایک تدبیر ، یہ کسی کی تقدیر پہ سیاہی پھیر دینا تھا ، یہ کسی جیتے جاگتے وجود کو زندہ لاش کر دینا تھا ۔۔۔

محبت کے ازلی ستارے ٹوٹ کے بکھرنے  لگے ، عبدالعزیز نے قرض اور عزت کی بخشش کے بدلے مینا مانگ لی ، مینا جو ایک زندہ وجود ہے ، مینا جس تک موت کا پروانہ اڑتا اڑتا پہنچ گیا ہے ، اور وہ اپنے باپ کے قدموں کی راہ تکتی ہے ، اس نے بے دردی سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے ، وہ ابوالحسن کی عزت کو رسوا نہیں ہونے دے گی ، اس نے اپنی ہر اک سسکی کو گلا گھونٹ ڈالا 

------

ابوالحسن کو یہ سودا کسی صورت منظور نہیں تھا ، وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی مینا کی زندگی کو تاریک نہیں کریں گے ، ایک مدہم سی آس جلتی تھی ، شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور سلیم چلا آئے ، مگر ایسا کچھ نہ ہوا ، مینا نے اپنی رضا دے دی ، وہ اس عقد کے لیے راضی تھیے ، عورتیں اس کی قسمت پہ رشک کرتی تھیں ، کھاتے پیتے گھرانے میں جانے والی ہے ، عیش کرے گی ، سلیم کی دی گئی گالی نے اس کی قسمت بدل دی تھی ، سلیم سے کی گئی محبت کو اس نے اپنے ہاتھوں جلا دیا تھا 

-----

مینا ابوالحسن کے کندھے سے لگی کھڑی تھی ، وہ خاموش تھی 

مینا کو یوں سرخ لباس میں لپٹا دیکھ رضیہ رونے لگی ، وہ ماں کے سینے سے جا لپٹی ، رضیہ اپنی بیٹی کی روشن پیشانی چومے جاتی تھی ، اس نے ایک بڑی قربانی دی تھی --- عورتوں کے  گٹھ  سے چہ مگوئیاں اٹھنے لگیں ، کسی نے سلیم کو کوسا ، کوئی ابوالحسن کے فیصلے پہ شکوہ کناں ہوا ، اور مینا وہ سرد تھی ، آنسو جیسے سوکھ گئے تھے ، سینے میں جو دل کا ٹکڑا تھا ، پتھر ہو چکا تھا ---- کسی کی یاد رہ رہ کے ستاتی تھی ابوالحسن کی تسبیح کے سنہرے دانے دور تک بکھرتے چلے گئے ----

رات کے مقدس پہر مینا کی آنکھ کھلی ، عبدالعزیز گہری نیند سویا ہوا تھا ، وہ بستر سمیٹ کے باہر آ گئی ، سیاہی کے ان دیکھے ریشمی دھاگے گیلے پڑنے لگے ، آسمان سے برف گرنے لگی ، سماں مہربان ہوا اور مینا کے جذبات سلگنے لگے ، برف گراتے آسمان کے نیچے وہ جلنے لگی ، اور سسکتے ہوئے رونے لگی ،   

اس نے ایک کے بعد دوسری گالی باآواز بلند منسوب کی  ، 

سسکتی ہوئی زندگی کے نام ، افلاس کے نام  ، بنجر ارادوں کے نام 

برف کے اولے برستے چلے گئے ، اور گالی منسوب کی گئی 

سرمایہ دارانہ نظام کے نام ، پست اور غلام سوچ کے نام ، غربت کے نام 

 اور گالی منسوب کی گئی،  محبت کے نام جو اس کے دل کو کاٹتی ہے اور اسے سانس نہیں لینے دیتی ----

وہ با آواز بلند روتی چلی گئی

، عبدالعزیز بے خبر سویا رہا ، اگلی صبح اس نے دیکھا کہ مینا کو سرد اور جامد وجود اکڑا پڑا تھا

کہیں دور ، کسی شہر سے ، مطلوبہ رقم ساتھ لیے ، دیر ہو جانے کے خدشے کے ساتھ سلیم واپسی کی راہ پہ اڑتا ہوا آتا تھا ، ہاں وہ اپنی عادتیں بدل لے گا ، وہ مینا کو بہت خوش رکھے گا محبت کے ازلی ستارے ٹوٹنے لگے اور قصہ تمام ہوا ----!

محمودالحسن

No comments:

Post a Comment

مینیو