Wednesday, December 23, 2020

''میں تو بہت کچھ سوچتی رہتی ہوں۔‘‘ - I think a lot

I keep thinking a lot."For example, what?" They were both sitting on their knees and the angels were looking at her very gently."That is why an innocent person suddenly gets into trouble. It is the work of his own hands, we are not innocent at all!"Wrong." Absolutely wrong. I don't believe it. " "A girl was tricked into having dinner under the pretext of proposing to her son-in-law.

''میں تو بہت کچھ سوچتی رہتی ہوں۔‘‘
’’مثلاً کیا؟‘‘ وہ دونوں دوزانو ہو کر بیٹھی تھیں اور فرشتے بہت نرمی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’یہی کہ اچانک کسی بے قصور انسان پہ خوامخواہ مصیبت کیوں آ جاتی ہے؟‘‘
’’وہ اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے، ہم قطعاً بھی بے قصور نہیں ہوتے محمل!‘‘
’’غلط…. بالکل غلط۔ میں نہیں مانتی۔‘‘ وہ جیسے بھڑک اٹھی۔ ’’ایک لڑکی کو اس کا سگا تایا زاد پروپوز کرنے کے بہانے ڈنر کا جھانسہ دے کر، اسے خوب بننے سنورنے کا کہہ کر، اپنے کسی عیاش دوست کے گھر لے جا کر ایک رات کے لئے بیچ آئے، یہ خوامخواہ کی مصیبت، خوامخواہ کا ظلم نہیں ہے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’نہیں؟‘‘ محمل نے بے یقینی سے پلکیں جھپکائیں۔
’’ہاں، قطعاً نہیں۔ اسی صورتِ حال سے بچنے کو تو اللہ تعالیٰ نے اسے بہت پہلے ہی سب بتا دیا تھا۔ یقیناًاس لڑکی کو یہ تو علم ہو گا کہ اسے ایک نامحرم کے لئے تیار نہیں ہونا چاہئے۔ کزن بھی تو نامحرم ہے اور اسے یہ بھی پتہ ہو گا کہ اسے اپنا جسم اور چہرہ اس طرح ڈھکنا چاہئے کہ کسی نامحرم، بالفرض اس کے کزن کو، کبھی علم ہی نہ ہو سکے کہ وہ اتنی خوب صورت ہے کہ وہ اسے ’’بیچنے‘‘ کا سوچے۔ اب بتاؤ، یہ ظلم ہے یا اس کے ہاتھوں کی کمائی؟‘‘
وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ بِنا پلک جھپکے فرشتے کو دیکھ رہی تھی، جو سر جھکائے دوزانو بیٹھی آہستگی اور نرمی سے کہہ رہی تھی۔
’’اور یقیناًاپنے کزن کے دھوکے میں آنے سے قبل کسی نے اللہ کے حکم سے اسے خبردار ضرور کیا ہو گا۔ اس کے ضمیر نے یا شاید کسی انسان نے۔ مگر اس نے پھر بھی نہیں سنا اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے عزت اور حفاظت سے رکھے، یہ تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے، آؤٹ آف دی وے فیور ہے۔ ہم اتنے بے قصور ہوتے نہیں ہیں محمل! جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں۔‘‘

No comments:

Post a Comment

مینیو