Friday, December 25, 2020

خوفناک مناظر, اندھیری راتوں سے کم نہیں ہوتے. Terrible Scenes, No Less Than Dark Nights.

Terrible scenes, no less than dark nights. Some memories, some moments, some events, and some accidents leave a burden on the heart of human life for centuries that eventually leads to death. The night was quite dark. The cold winter winds had engulfed the entire valley. There was silence everywhere. In this silence, if someone spoke in a soft voice, the third servant could easily hear. 

خوفناک مناظر, اندھیری راتوں سے کم نہیں ہوتے. کچھ یادیں, کچھ لمحے, کچھ واقعات, اور کچھ حادثات انسانی زندگی کے دل پر صدیوں تک بوجھ چھوڑ جاتے ہیں جو آخر میں موت کا باعث بنتے ہیں.رات کافی گہری ہوچکی تھی. سردیوں کی ٹھنڈی ٹھار ہوائیں پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی. ہر طرف خاموشی کا عالم تھا. اس خاموشی میں اگر ہلکی سی آواز میں کوئی بولے تو تیسرا بندہ آسانی سے سن سکتا تھا.
کافروں کا غلبہ پوری وادی کو ہلنے تک نہ دیتا تھا. گھر سے باہر جانے والا فرد کبھی بھی واپس اپنے گھر میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا. نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کسی کا سر دروازے سے باہر ہو تو واپس گھر میں نہیں آسکتا تھا. خوبصورت اور دلکش مناظر سے بھری پڑی یہ وادی صدیوں سے لہو کی لپیٹ میں تھی. جہاں خوبصورت آبشار بہا کرتے تھے, آج لہو کے آبشار بہنے لگے تھے. کبھی سنا تھا کہ عظیم جنگجوں مسلمان کہا کرتے تھے کہ شہداء کا خون ہم زمین پر گرنے نہیں دیں گے. آہ.... نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ جانے والا زمین پر خون بہا کر اپنے وطن سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرکے ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے.
" میرا رب گواہ ہے کہ میں مرتے دم تک اپنے وطن کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کر دوں گا. اے کافروں! اے بد ذاتوں! اے جانوروں کو پوجنے والوں! یاد رہے ہماری نسل سے پیدا ہونے والا ہر ایک بچہ مرتے دم تک پاکستان سے وفاداری کا گیت گائے گا. اوئے کم بختوں! خدا کی لعنت ہو تم سب پر. تم کبھی میرا ٹھکانہ نہ جان سکو گے."ایک نا معلوم کمرے میں بند 32 سالہ نوجوان, دو بچوں کا باپ, عبداللّٰہ (جو کہ خون میں لت پت تھا) چیخ چیخ کر کمرے سے نکلنے والے بھارتی کافر کو اپنے جذبات دکھا رہا تھا. لیکن کمرے سے نکلنے والا کافر اپنے ظالم ہاتھوں کو آزمانے کے بعد بہرا بنتے ہوئے کچھ سنے بغیر باہر نکل گیا. کافر بہرا تو نہیں تھا. اس لئے یقیناً اس نے اپنے بارے میں توہین آمیز الفاظ سنے ہوں گے. ان لفظوں سے وہ اندر ہی اندر یقیناً بھڑک رہا ہوگا.آہ.....یقیناً کم بختی ہے تمہاری اے کافروں! تم اس ظلم کی پاداش میں جہنم کے نچلی تہہ میں ہو گے. اے کمبختوں! یقیناً ہماری نسلوں سے ایسے جوان پیدا ہوں گے جو تمہیں چیر پھاڑ دیں گے.
"ماما! بابا کب آئیں گئے؟"
"ماما! بابا کیوں نہیں آرہے؟؟ وہ صبح سے گئے ہوئے ہیں..."دونوں دونوں بچے بلکتے بلکتے ماں کی آغوش میں سہمے سہمے بیٹھ گئے. کیا کہتی ان ننھی جانوں کی ماں کہ شاید تمہارا باپ واپس کبھی نہیں آئیں گئے, وہ اس دنیا سے شاید ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں.آہ....کیا بیت رہی ہے اُس بیوی پر جو شوہر کے انتظار میں بیٹھی سودا سلف کا انتظار کر رہی ہے, جس کا شوہر اپنے اہل و عیال کی زندگی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار تھا. جو شاید کبھی واپس لوٹ کر نہیں آ سکتا تھا.
" بیٹا! آپ کے بابا آنے والے ہونگے. چلیں آپ دونوں اب سوجائیں."
" لیکن ماما مجھے بھوک لگی ہے. میں کھانا کھا کر سو جاؤں گئی."
ننھی آٹھ سالہ سعدیہ ضد پر اڑ گئی تھی. جبکہ دس سالہ اذان کچھ سمجھ بوجھ رکھتا تھا اس لیے وہ ماں کے اشارے پر فرمانبردار بیٹے کی طرح اپنے بستر پر دراز ہو گیا." بیٹا! بابا آئیں گے تو میں آپ کو جگا لوں گی. پھر ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے."عشال اپنے دونوں بچوں کے ساتھ وہیں لیٹ گئی. دل میں خوف منڈلا رہا تھا. نجانے میرا شوہر زندہ بھی ہے کہ نہیں. یا رب آگے کون سی مصیبت آنے والی ہے....؟ بھوک و افلاس کی وجہ سے کہیں میرے بچوں کو کچھ ہو نہ جائے. اب میں کیا کروں گی. انہی سوچوں کے ساتھ وہ نیند کی گہری وادی میں جا پہنچی.
"رب تمھیں پوچھے گا. آہ....آہ...."
زخموں سے شدت کے ساتھ خون بہہ رہا تھا. آفرین ہے عبداللّٰہ پر جس کی زبان سے صرف آہ.... ہی نکل رہی تھی خون بہہ رہا ہے, لیکن پھر بھی عبداللّٰہ کا چہرہ مسکرا رہا تھا. کیونکہ وہ ایک غیرت مند انسان تھا....... ذلیل کافر اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر مزید غصے سے لال پیلے ہو گئے تھے. غصے کی وجہ سے ان کے ظلم کرنے میں بھی شدت آ گئی تھی."بتا تیرا گھر کہاں ہے؟؟ ورنہ تو آج مرے بغیر یہاں سے نہیں جا سکے گا." رب جانے کیا ان کے ارادے تھے. آخر جب عبداللّٰہ نے زبان نہیں کھولی تو انہوں نے اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا. "جا اب تو آزاد ہے. ہمیں تجھے رکھ کر کوئی فائدہ نہیں ہوا."
غریب عبداللّٰہ اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا. لیکن وہ پیچھے آنے والے افراد کے قدموں کو محسوس نہیں کر سکا تھا. آخر گھر پہنچ کر اُس نے سکھ کا سانس لیا اور بیوی بچوں سے ملنے کے بعد جب راحت ملی تو وہیں بیٹھ گیا. سب سوالیہ نظروں سے عبداللّٰہ کو دیکھ رہے تھے لیکن اس کے پاس اپنے زخموں کے سوا کچھ نہیں تھا. اسی اثناء میں پیچھے کرنے والے دونوں کافر گھر میں داخل ہوئے اور سب سے پہلے عبداللّٰہ کو جنت کے باغوں میں بھیج دیا. پھر اپنی بے غیرتی کو دکھاتے ہوئے دونوں بچوں کے سامنے ان کی ماں پر تشدد کیا. جب بچے ماں کو اس حالت میں دیکھ کر اُن کی طرف لپکے تو جھٹک سے دوسرے کافر نے بچوں کو گولی ماردی. یوں دونوں بچے شہید کا رتبہ پاگئے. خدا کی لعنت ہو تم پر اے کافروں! کیا ملا تمہیں اس طرح تشدد کرنے پر......آہ.....درد سے بھری عشال اپنے اہل و عیال کو کھو چکی تھی. صرف آزادی کی خاطر. یقیناً آزادی بڑی نعمت ہے. بھوک و افلاس کی وجہ سے عشال نے بھی کب تک زندہ رہنا تھا.... سو وہ بھی اپنے اہل وعیال سے ملنے کے لیے پرواز کر گئی.آہ.... کتنی ہی ایسی خبریں روزانہ ملتی ہیں. لیکن کیوں انسانوں(مسلمانوں) کا ضمیر جاگتا نہیں ہے.
آہ.... کشمیر تو اور کتنے انسانوں کو اپنی زمین میں دفن کرے گا, آہ.... کشمیر تیری خاطر کتنے انسانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں, آہ..... کشمیر یقیناً کوئی امام مہدی ضرور پیدا ہوگا جو تجھے ان کفار کے غلیظ ہاتھوں سے چھٹکارا دلوائے گا, آہ.... کشمیر یقینا تیری نسل ہی تجھے آزادی دلوائی گئی.اللّٰہ کی لعنت ہو تم پر ایک کافروں! تم اور کتنے مظلوموں کو قتل کرو گے, جب کہ ہر گھر سے امام مہدی پیدا ہوئے گا جو کہ تمہیں جہنم واصل کرے گا, آہ....کشمیر تیرا رب ہی نگہبان ہو, آہ.... کشمیر تجھے رب تعالیٰ آزادی سے ہمکنار کرے.
·¬ رب تیری حفاظت کرے میرے کشمیر
دنیا تجھے آزاد ہوتا دیکھے گی میرے کشمیر

No comments:

Post a Comment

مینیو