Sunday, January 3, 2021

یہ لاش - Corpse

This corpse ... this is not a corpse ... this is a piece of my life, seeing it lying lifeless today, my own life is going to be lost." When that happened, they began to react a little too much. Zohaib bhai was standing and watching all this and got angry and said to Naveed bhai.

لاش

"یہ لاش۔۔۔ یہ لاش نہیں ہے۔۔ یہ میری جان کا ٹکڑا ہے، جسے آج یوں بے جان پڑا دیکھ کر میری اپنی جان جا رہی ہے" ہمارے ہاسٹل انچارج نوید بھائی کی شادی میں بھابھی کو جہیز میں ملنے والی استری خراب ہوئی تو وہ کچھ زیادہ ہی اوور ری ایکٹ کرنا شروع ہو گئے۔

زوہیب بھائی کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور غصے میں آ کر نوید بھائی سے کہنے لگے " ناں استری دی اگر اتنی ڈُکھ لگی پی اے وے تاں تُساں کوں وی اِیندے کھٹے دفنا ڈِیوں" ۔

یہ تو شکر ہے نوید بھائی کو سرائیکی سمجھ نہیں آتی تھی تو زوہیب بھائی گھر کے بعد ہاسٹل سے بھی نکالے جانے سے بچ گئے ۔ ہمارے ہاسٹل کی اکلوتی استری خراب ہونے کے بعد اب سب سے بڑا مسئلہ استری کا تھا کیونکہ کوئی بعید نہیں تھا اگر دھوبی سے کپڑے استری کراتے تو آخری سانسوں کی طرح چلتا ہمارے مہینے کا بجٹ ہمیں تہہ و بالا کر دیتا۔

ہاسٹل میں چند لڑکے جن کے پاس استری تھی زوہیب بھائی نے ان کے ساتھ فقط نسوار کی وجہ سے اپنے وسیع و عریض تعلقات کو اپنی توند کی طرح پُھلا کر منجمد کر دیا تھا۔

متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ باقی سارے اخراجات ہم دیکھ رہے ہیں تو استری کا بندوست زوہیب بھائی ہی کریں گے۔

اگلے ہفتے جب زوہیب بھائی گھر سے واپس لوٹے تو ان کے ہاتھ میں استری دیکھ کر ہمیں یقین نہ آیا کہ جس بندے سے اس کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ ارد گرد کے پچاس ہمسائے بھی تنگ رہتے ہیں اسے استری کیسے دے دی گئی۔ ہمیں فوراً شک گزرا کہ ڈائنا سور کے اس آخری خراب انڈے نے ضرور گھر سے استری چرائی ہو گی۔

حقیقت جاننے کے لئے ہم نے نسوار کے اوپر ہاتھ رکھوا کر زوہیب بھائی سے قسم اٹھوائی کیونکہ زوہیب بھائی ہر معاملے میں جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن نسوار کی قسم کے اوپر اپنے ساتھ ساتھ آٹھ دس اور لوگوں کے سچ بھی منہ پھاڑ کر بَک دیتے ہیں۔

زوہیب بھائی نے بتایا کہ جس دن انہوں نے گھر سے واپس آنا تھا اس دن استری کو جلدی جلدی کھول کر اندر سے ایک تار نکال دی اور غصہ کرنا شروع کر دیا کہ یہاں بیٹا دن رات ہاسٹلوں میں محنت کر کر سوکھ کر آدھا ہو گیا ہے اور گھر میں اس کے لئے استری والے کپڑے تک نہیں، جب گھر والے ہی عزت نہ دیں تو باہر کون مائی کا لال عزت کرے گا ۔

زوہیب بھائی کی یہ شاہکار کہانی سننے کے لیے آدھا ہاسٹل ہمارے جھونپڑ خانے یعنی ہمارے کمرے میں جمع ہو چکا تھا اور زوہیب بھائی کسی بہت بڑے مقرر کی طرح اپنی اس تاریخ ساز کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے کہ اسی دوران گھر سے زوہیب بھائی کو چاچو کی کال آ گئی اور زوہیب بھائی نے سپیکر آن کر کے انہیں بتایا کہ " ابا میں ابھی مستری کی طرف سے آ رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ استری مکمل طور پر جل چکی ہے اس کو ریوائنڈ کرانے میں دو ہزار روپے لگ جائیں گے، آپ ایسا کریں دو ہزار بھیج دیں ، کچھ پیسے میں اپنی طرف سے ملا کر گھر کے لئے ایک نئی استری لے کر بھیج دوں گا"۔

پورا ہاسٹل اس لگڑ بھگے کے شاطر دماغ پر عش عش کر اٹھا۔ کچھ دن بعد جب گھر سے استری کے پیسے آئے تو زوہیب بھائی نے لنڈے کے انٹیک پیس والوں سے سات سو روپے میں استمعال شدہ استری خریدی اور اسے دو گھنٹے لگا کر رگڑ رگڑ کر صاف کر کے بالکل نیا بنا دیا اور دوسرے دن گھر بھجوا دیا۔ اب میں اور مجتبیٰ بھائی خوش تھے کہ باقی کے بچے ہوئے پیسوں سے چلو کسی سستے ڈھابے پر اچھا سا کھانا کھا لیں گے لیکن ہماری یہ خواہش اس وقت دم توڑ گئی جب زوہیب بھائی بچے ہوئے پیسوں سے پورا ایک بڑا تھیلا نسوار کا لے آئے اور اسے اپنے بدبودار صندوق میں رکھتے ہوئے بولے " ہنڑ بلاشک میکوں روٹی نہ ملے میڈا گزارا ول وی تھی ویسی" ۔


سلمان حیدر خان

No comments:

Post a Comment

مینیو