Sunday, February 28, 2021

خواب، جنون اور منزل - Dreams, Madness And Destination

 The obsession with climbing mountain peaks is actually the obsession with knowing oneself. The obsession with self-conquest. It is the obsession with climbing peaks that inspires one to stand in front of a dangerous mountain like K2. It is said that love never fails, madness never ends. You just have to be more discriminating with the help you render toward other people. It is impossible to do anything without determination. This madness is the madness of conquering oneself and one's fear. Jaggar is a very famous lion of Muradabadi.

خواب، جنون اور منزل


پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کا جنون اصل میں خود کو جاننے کا جنون ہے۔ اپنے آپ کو تسخیر کرنے کا جنون ہے۔ یہ چوٹیاں سر کرنے کا جنون ہی ہوتا ہے جو انسان کو ’کے ٹو‘ جیسے خطرناک پہاڑ کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ عشق کبھی ماند نہیں پڑتا، جنون کبھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی میں اپنے مقصد اور منزل کو حاصل کرنے کےلیے جنونی ہونا پڑتا ہے۔ عزم و ہمت کے بغیر کسی کام کو انجام دیا جانا بالکل ناممکن ہے۔ یہ جنون خود کو اور اپنے ڈر کو فتح کرنے کا جنون ہے۔ جگر مراد آبادی کا بہت مشہور شعر ہے۔


ہم کو مٹا سکے زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں


انسان کا جذبہ اور اس کے مقصد کو پا لینے کا جنون اس کی آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اس کی آنکھیں خواب بنتی ہیں اور اگر ان میں مقصد حیات ہو تو پھر یہی خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ خوابوں کی مشعل تھامنا کوئی مشکل کام نہیں، لیکن ہاں! ان خوابوں سے حقیقت کی جانب پرواز کرنا اصل مقصد حیات ہے۔ حوصلے بلند ہوں تو صلہ بھی بلند ہی ملتا ہے۔ اس لیے اپنے خوابوں کی تعمیر کےلیے ناممکنات سے ممکنات تک کا سفر کیجئے۔

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ پاکستانیوں کےلیے ایک مثال ہیں۔ ان کی ہمت، حوصلے اور عزم و استقلال کی داد دینا پڑے گی۔ جب سردیوں کی سرد ترین راتوں میں لوگ اپنی رضائی میں بیٹھے خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ٹی وی پر چلتے ہوئے ڈراموں کا مزہ لوٹ رہے ہوتے ہیں، تو اس سے بھی کئی گنا زیادہ شدید سردی میں منفی پچاس درجہ حرارت میں ایک چھ فٹ کا بندہ چھیاسی ہزار فٹ سے زیادہ کی بلند ترین چوٹی کے سامنے کھڑا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سر کرنے کا عزم لیے ہوئے بلا خوف و خطر اس عظیم الشان لیکن ظالم پہاڑ کو اپنے قدموں کے نیچے فتح ہوتے اور اس پر اپنے عظیم ملک پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ محمد علی سدپارہ کی زندگی، اس کا جوش، اس کا جذبہ، اس کا عشق شاید ’کے ٹو‘ پہاڑ سے بھی بڑا تھا۔ اس لیے اس نے اپنی زندگی کو بھی اس عشق کے آگے کچھ نہ سمجھا اور آج ہم سب کا ہیرو بن گیا۔


وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے


کہتے ہیں زندگی میں کچھ بھی آسانی سے نہیں ملتا۔ ہر چیز کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پھر چاہے وہ قیمت آپ کی زندگی کی ہی کیوں نہ ہو۔ بڑی راہ کا مسافر چھوٹی موٹی رکاوٹوں کے آگے ہار نہیں مانتا۔ راستہ بنانے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ راستہ کبھی خودبخود نہیں ملتا۔ منزل پر پہنچنے کےلیے کٹھن سفر طے کرنا پڑتا ہے اور کٹھن سفر سے گزرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے کا بھی اپنا ایک الگ مزہ ہے۔ کیونکہ جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، ان کے لیے ہر کامیابی ایک چیلنج کی طرح ہوتی ہے۔ جسے پورا کیے بنا کامیابی ادھوری ہے۔


اپنے جنون اور عشق کی خاطر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے شوق اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے والے ان کوہ پیماؤں سے ہمیں بھی یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ منزل پر پہنچنے کےلیے بے خوف و خطر ہو کر قدم آگے بڑھانا پڑتا ہے۔ اس لیے کسی بھی خوف و خطرے سے مبرا ہوکر اپنے مقصد کے آگے ڈٹ جائیے اور اپنی منزل کو حاصل کرنے کےلیے جان کی بازی لگادیجئے۔ اپنے ہر مقصد کو عظیم بنائیے تاکہ جیت نہ صرف آپ کی جیت ہو بلکہ پورے ملک کی جیت ہو۔


حرا احمد

مصنفہ نوجوان بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ عوامی مسائل بالخصوص خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹرسائنس میں فارغ التحصیل ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہیں۔

No comments:

Post a Comment

مینیو